Disaster Relief & Propaganda

Dec 2012

ڈیزاسٹر ریلیف اورسیاسی پراپگنڈا |عون ساہی

 ترجمہ: عمیر رشید

English | اردو

لگتا ہے کہ مفت کی پریس کوریج کے لئے امدادی کاموں سے بہتر کوئی ٹوٹکہ نہیں۔ سیاسی جماعتیں ہوں یا حکومت، فوج ہو یا مذہبی گروہ، ہر کوئی سیاسی پوائنٹ سکور کرنے میں لگا ہے۔ 

مجھے اس ستمبر وفاقی وزیر برائے تبدیلی آب وہوا رانا فاروق کے سرکاری وفد برائے فلڈ ریلیف کے ہمراہ راجن پور اور ڈیرہ غازی خان جانے کا اتفاق ہوا۔جنوبی پنجاب کے یہ دونوں اضلاع ستمبر کے پہلے ہفتے میں آنے والے سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے تھے جس سے بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا تھا۔ ہزاروں لوگ بے گھرہو گئے تھے۔

وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے متاثرینِ سیلاب کے لئے الگ الگ ریلیف کیمپ لگا رکھا تھا۔ اور دونوں کیمپوں میں سیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے پوسٹر لگے ہوئے تھے۔ صوبائی ریلیف کیمپ میں مسلم لیگ نون کے لیڈران نواز شریف اور شہباز شریف کےپوسٹر اور وفاقی حکومت کے کیمپ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جھنڈے اور پارٹی لیڈران کے بینرز آویزاں تھے۔

یہ مقابلہ یہیں تک محدود نہ تھا۔ بلکہ دونوں پارٹیوں کے مقامی لیڈر اس تگ ودو میں تھے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ٹینٹ ہتھیا لیں تاکہ اپنے علاقوں میں تقسیم کرسکیں۔ میرے دورے کے دوران مسلم لیگ نون  اورسردار ذوالفقار کھوسہ کے مابین جاری سرد جنگ کی وجہ سے صوبائی حکومت کی کاروائیاں دو دنوں سے بندتھیں۔

ایک اور واقعہ میری وہاں موجودگی میں پیش آیا۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد آفت زدہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں کی ذمہ دارصوبائی حکومت ہے . اس نے وفاقی حکومت کے ایک وفد سے ان علاقوں کے دورے کے سلسلے میں تعاون سے ہی انکار کردیا۔ اس سے پہلے گورنرپنجاب سردار لطیف کھوسہ کو بھی سیاسی بنیادوں پر ڈیرہ غازی خان میں صوبائی حکومت کے قائم کردہ ر یلیف کیمپوں کادورہ کرنے سے روک دیا گیاتھا۔

جب رانافاروق ان علاقوں کا دورہ کر رہا تھا تو وہ اس بات پر زور دے رہا تھا کہ امدادی سامان ڈیرہ غازی خان میں پیپلز پارٹی کے مختلف گروپوں میں مساوی طریقہ سے تقسیم ہو، ناکہ یہ سامان اصل متاثرین تک پہنچے۔ راجن پور میں توموصوف نے ایک بھی امدادی کیمپ کادورہ نہ کیا۔ اس کے بجائے انھوں نے حکومتی جماعت کے ایک ناراض رکنِ اسمبلی سردار محمد امان اللہ دریشک کی رہائشگاہ کا رخ کیا جہاں لگ بھگ دوگھنٹے گزارنے کے بعد موصوف تب واپسی کے لئے اٹھے جب پاک ائیرفورس کے ہوابازوں نے انکے بغیر اسلام آبادلوٹنے کی دھمکی دی۔

نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی سرکاری طور پر تو یہ دعوی کرتی ہے کہ امدادی کاروائیاں اس سال پہلے کی نسبت بہتر طریقے سے جاری ہیں۔ لیکن میرا تجربہ اس سے برعکس تھا۔ دونوں اضلاع میں نیشنل اور پرونشل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹییوں کی ا لگ الگ کاروائیاں جاری تھیں اور دونوں اداروں کے مابین کوئی زیادہ رابطہ نہیں تھا۔ یہاں تک کہ پرونشل اتھارٹی کے افسران نے وفاقی اتھارٹی کوسیلاب سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ وفاقی اتھارٹی کے ایک افسر نے اس پر یہ تبصرہ کیا، ’ اس سال امدادی کاروائیاں مکمل طور پر سیاستدانوں کے کنٹرول میں ہیں اور وہ سیاسی فوائدکے لئے ان کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں‘۔

صفحات: ١  ٢

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , , , , , ,

One Response to Disaster Relief & Propaganda

  1. Macmac on Jan 2013 at 3:02 AM

    Thanks for taking time to join the faebcook campaign. This is a first step in addressing the deeper challenge of America’s Islamophobia. We must be a voice for peace, and this voice must be followed with action. We hope to plan multiple trips to the flood areas. We are developing a partnership with the Multan’s Women Hospital, near the most affected area that is in Southern Punjab, where we can provide ongoing community health work. We are also trying to see Water For All engaged there so we can see a water-well movement spread. Please join on faebcook with thoughts and ideas. I’ll be glad to help you plug in, and get the info and opportunities you want. Everett Miller with IMLI’s Community First Responder is coming to Texas and Tennessee in October and can connect with folks in person.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *